Skip to content Skip to footer

کیا سومیری بلتی تھے۔۔۔۔۔؟یا بلتی سومیری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

آپ نے لفظ سومیر یا سومیر ی سنُا ہوگا،سومیر دنیا کی نقشہ پر آج سے پانچ5،چھ6 ہزار سال قبل دریا ئے دجلہ و فرات کے مابین کا علاقہ تھا جیسے آج جنوبی عراق کہا جاتا ہے ،اور یہاں کے رہنے والوں کو سومیری کہا گیا ،انگریزی میں اس کو Sumerians کہا جاتا ہے،سومیری قوم کو آج کے دور میں آثار قدیمہ کے ماہرین کی دریافت شدہ اشیا کی روشنی میں انسانی دنیا میں ادب اور تہذیب کے بانی قوم کہتے ہیں ،اور اس قوم کو یعنی سومیریوں کوآج کے دنیا کا محسن قوم بھی گرانتے ہیں کیونکہ اب تک دنیا بھر سے ملنے والی آثار قدیمہ میں سے سومیریوں کے ادب اور تہذیب قدیم ہیں اور سومیریوں کی تہذیب، تمدن جو کہ انہوں نے مٹی کےالواح ( لوح کی جمع) پر لکھ کر محفوظ رکھا گیا تھا دریافت ہوا ہے اور ان کی زبان کو میخی زبان کا نام دیا گیا ہے ، کا ترجمہ بھی ماہرین نے کیا ہے،اس وجہ سے سومیریوں کے ادب پارے دنیا کی سب سے قدیم ادب پارے قرار پائے ہیں۔ان ادب پاروں میں جوکہ مٹی کے الواح کی صورت میں دریافت ہوئے ہیں ان میں دیوتاوں کے حمد،جدائی و مصیبت کے نوحے،مرثیے، فضائل کے قصائد،رومانوی اور دیگر ایسی شاعری کے ابواب شامل ہیں اور ساتھ میں داستان اور تاریخ کو بھی شاعری کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے،سومیریوں کو دنیا اس لئے بھی آج کے انسانوں کا محسن جانتے ہیں کیونکہ معلوم شدہ تاریخ کے مطابق نہ صرف انہوں نے ،انسانی میں تاریخ میں پہلی بار ادب کو لکھ کر محفوظ کرنے کا آغاز کیا بلکہ انہوں نے انسانوں کو گلہ بانی ،جدید زراعت،اور منظم شہری زندگی کے طریقے بھی سیکھائے ۔کہتے ہیں مصری اور یونان کی تاریخ کم و بیش ۳ سے ۴ ہزار سال پرانی ہے جبکہ سومیریوں کی تاریخ ۵ سے ۶ ہزار سال پرانی ہیں۔مجھے بطور طالب علم آثار قدیمہ و ثقافتی ورثہ سومیریوں کی تاریخ اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ یہ قوم ادب اور تہذیب کے حوالے سے انسانیت کا محسن سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے دیوی ، دیوتاوں اور شہروں کےنام نے بھی مجھے جونکا دیا ،کیونکہ ان کے بہت سے دیوی ،دیوتاوں کے نام جو کہ آج سے ۵،۶ ہزار سال پرانی ہیں،میرےلئےکوئی اجنبی نہیں لگا ۔ وہ اس لئےکہ یہ سارے نام ہم بطور بلتی آج بھی اپنے روز مرہ زندگی میں، انسانی رشتوںمیں اور بلتستان کے مختلف قصبوں اور دیہاتوں کے نام کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور سنتے ہیں۔ مثلاسومیریوں کے ایک شہر کا نام’’اُریدو‘‘ جس کے معانی ہیں ،طاقتور جگہ ،جبکہ بلتی زبان میں بھی ’’اُر‘‘ طاقت،پاور، کےمعنی میں استعمال ہوتا ہے،جبکہ’’ دو‘‘ جگہ کے لیے استعمال ہوتا ہے،وہ بھی ایسی جگہ کے لئے جو دریا کنارے آباد ہو ، جیسا کہ اریدو دریا کنارے آباد تھے اسی طرح ’’سکر ‘‘ ’’دو‘‘ پل پل ’’دو‘‘ وغیرہ،اسی طرح اگر ہم لفظ ’’اَن‘‘ کو دیکھے جو کہ سومیری آسمان کے لئے استعمال کرتے تھےاور دیوتاوں کے نام کےساتھ لکھتے ہیں ،لغوی معانی میں بہت زیادہ طاقتور ،سومیریوں کے ایک دیوتا کا نام ’’اَن لل‘‘ تھا جو کہ’’فضا،ہوا طوفان اور زمین کا دیوتا تھا ،جبکہ اَن کا لفظ‘‘ بلتی زبان میں بھی بہت زیادہ طاقوت ور ی کے لئے استعمال ہوتا ہے،جس کو بطور لاحقہ کسی شخص کے نام یا جگہ کے نام کے ساتھ استعمال میں لاتے ہیں تاکہ بہت زیادہ طاقوت اس کے ساتھ منسوب کیا جائے جیسے کہ’’اَن چن‘‘ یعنی بہت زیادہ طاقت ور ۔اسی طرح سومیریوں کے ایک دیوتا کا نام ’’اَتُو‘‘ تھا ،اور ایک کا نام ’’اَنو‘‘،ان کے ساتھ ان کی ایک دیوی نام ’’نَنِ ہسرک‘‘ تھے، جوکہ ’’اَتُو‘‘ دیوتا کی بہن تھیں، جبکہ بلتی زبان میں بھی ’’اَتُو‘‘ والد کے لئے ،’’اَنُو ‘‘والدہ کے لئے، جبکہ ’’نَنِ‘‘ والد کی بہن کے لئے ہی استعمال ہوتے ہیں۔اسی طرح عراق میں بسنے والے ایک قبیلے کا نا م کسدی ہیں جوکہ غالبا ’’کیسری ‘‘ہیں یعنی کسدی یا کیسری کے لوگ ۔یہ لوگ 1600 قبل مسیح میں یہاں بابلیوں کو شکست دے کر آباد ہوئے تھے ۔ان کے بارے میں مشہور ہیں کہ وہ آریائی نسل کے تھے اور کوہستانی بھی تھے،جبکہ کیسر بھی بلتی تاریخ میں ایک عظیم بادشاہ یا دیوتا گزرا ہے،جس کے نام سے منسوب نہ صرف بہت سے جگہیں اور چیزیں بلتستان کے طول عرض میں پھیلا ہوا ہے،بلکہ کیسر ڑگیلفو کی داستان کوبھی خالص بلتیوں سے جوڑا جاتا ہے۔یوں ہم عراق میں بسے ایک اورقبیلہ،اشوری Assyrian قبیلہ کاذکر کریں تو بلتستان میں اس وقت بھی ایک قوم اشور کے نام سے مشہور ہیں اور آباد ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا بھی Assyrian سے کوئی تعلق ہو۔ اسی طرح سومیریوں کے حمد،قصائد ،نوحے ، مرثیے اورگیت ، نے بھی مجھے تعجب میں ڈالا ،اس کاانداز بیان بلکل اسی طرح کا ہے جیسا کہ بلتی زبان میں موجود شاعری کے ہیں خاص کر باپ کا مرثیہ اور بیوی کا مرثیہ اور شہروں اور حکومتوں کے خاتمہ پر پڑھے گئے نوحے۔ ان سب کا انداز کچھ اس طرح کے ہیں جیسے کہ بلتی زبان میں موجود ’’ہڑنگ ہلخو ‘‘ اور دیگر شاعری کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے اور بھی چیزیں ہیں جن کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے تاہم ایک کالم میں ممکن نہیں اور جو ان چند چیزوں کا تذکرہ کیا ہے وہ اس لئے ضروری تھا کیونکہ بطور طالب علم میرے ذہن میں سومیریوں کی تاریخ پڑھنے کے بعد سوالات جنم لے رہے تھے کہ آیا سومیریوں کے دیوتاوں کےنام، جگہوں کےنا م،داستان، شاعری اور نوحے گیت وغیرہ کا بلتی زبان سے مماثلت رکھنا یا ایک جیسا ہونا یہ سب مخص اتفاق ہیں یا پھر سومیریوں کا بلتیوں کے ساتھ کو تعلق واسطہ ہیں؟ایک قدم آگے بڑھ کر یہ سوال کیا جائے کہ کیا سومیری بلتی تھے؟ یاپھر بلتی سومیری تھے ؟خیر ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات کو میں محقیقین ،لسانیات کے ماہرین اور تاریخ دانوں پر چھوڑتا ہوں۔ تاہم میری ناقص رائے میں اگر کوئی تعلق ہونے کی صورت میں سومیریوں کے بلتی ہونے کے امکانات زیادہیں کیونکہ انسانی تاریخ کے اعتبار سے انسانوں نے اپنی زندگی کا آغاز پہاڑوں سے کیا اور آہستہ آہستہ پہاڑوں سے اُتر کر میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کئے۔یوں ممکن ہیں کہ بلتیوں کے کچھ قبائل نے پہاڑوں سے اُتر کر میدانی علاقوں کی طرف سفر کئے ہواور جاکے سومیر میں اپنی سلطنت قائم کی ہو۔یہاں پر آثار قدیمہ کے ماہرین کی بھی توجہ درکار ہیں کہ بلتیوں کے سومیریوں کےساتھ تعلق ہونے کا معلوم ہونے کی صورت میں بلتستان یا تبت کے ان تما م علاقوں میں جہاں بلتی بولی جاتی ہیں،سومیر سے بھی قدیم انسانی آثار قدیمہ پائے جاسکتے ہیں ،جس پر تحقیق کرنے ضرورت ہوگی،تاکہ ہم یہ جان سکے کہ ہمارے آباواجداد یعنی بنی نوع انسان کی اصل تاریخ کیا ہیں ؟
تحریر:محمد اسماعیل آغا

Disclaimer

The articles and stories uploaded on the official website of GBAHF are primarily based on personal field observations, recorded narratives and ethnographic accounts of the students and faculty of the Department of Archaeology and Heritage Studies pending for further verification and validation by relevant experts. Similarly, the authenticity of article by other local writers, historians and ethnographers will be validated. When pass the validation and review process, these materials will be categorized as confirmed primary sources. All copy rights of the information are reserved by the author(s) and the Foundation. Feedback and comments are welcome

Subscription

Subscribe for Weekly News!

Don’t miss our future updates! Get Subscribed Today!

GBAHF ©. All Rights Reserved.